خود احتسابی کی راہ
ردا فاطمہ
سی ٓار 1

انسان کی شخصیت کی تعمیر میں اس کے باطن کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک اچھا انسان بننا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ کیونکہ اکثر بگاڑ باہر کے حالات سے نہیں بلکہ ہمارے اندر موجود چند منفی رویّوں سے پیدا ہوتا ہے ۔انا پرستی شکایت کرنا غصہ اور الزام لگانا بظاہر عام سی باتیں لگتی ہیں مگر یہی چار چیزیں انسان کے اخلاق تعلقات اور روحانی سکون کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دیتی ہیں ۔انا پرستی انسان کو خود سے بڑا کچھ دیکھنے نہیں دیتی وہ اپنی رائے کو حرف آخر سمجھنے لگتا ہے اور دوسروں کی بات سننے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ نتیجتاً سیکھنے کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور ترقی رک جاتی ہے۔ انا انسان کو تنہا کر دیتی ہے۔ کیونکہ رشتے برابری عاجزی اور برداشت سے پنپتے ہیں نہ کہ خود پسندی سے اسی طرح شکایت کرنا ایک ایسی عادت ہے جو انسان کو ہر وقت محرومی کے احساس میں مبتلا رکھتی ہے ۔شکایت کرنے والا فرد اپنی توانائی حل تلاش کرنے کے بجائے شکوہ بیان کرنے میں ضائع کر دیتا ہے۔ وہ اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے حالات لوگوں اور قسمت کو قصوروار ٹھہراتا رہتا ہے۔ جس سے اس کی خود اعتمادی کمزور ہو جاتی ہے اور ذہنی بے چینی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ غصہ بظاہر طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ کمزوری کی نشانی ہے۔ غصہ عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور انسان وہ فیصلے کر بیٹھتا ہے جن پر بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے ۔غصے میں کہا گیا ایک لفظ برسوں کے تعلقات توڑ سکتا ہے۔ اور غصے میں اٹھایا گیا ایک قدم زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ جو شخص اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے وہ دراصل اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے اور یہی اصل کامیابی ہے۔ الزام لگانا بھی ایک خطرناک رویّہ ہے کیونکہ یہ انسان کو خود احتسابی سے دور کر دیتا ہے ۔جب ہم ہر غلطی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے لگتے ہیں تو ہم اپنی اصلاح کا موقع خود ہی کھو دیتے ہیں۔ الزام تراشی معاشرے میں بداعتمادی کو جنم دیتی ہے اور دلوں میں دوریاں پیدا کرتی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی غلطی مان لیتا ہے وہ بڑا بن جاتا ہے اور جو اپنی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ وہ مضبوط ہو جاتا ہے اگر ہم ان چاروں عادتوں کو دل سے نکال دیں تو ہمارے اندر برداشت پیدا ہو جاتی ہے سوچ میں پختگی آ جاتی ہے اور رویّوں میں نرمی آ جاتی ہے ۔ ہم دوسروں کو سمجھنے لگتے ہیں معاف کرنا سیکھتے ہیں اور اختلاف کے باوجود احترام قائم رکھتے ہیں۔ ایک اچھا انسان بننے کے لیے ضروری نہیں کہ ہم کامل ہو جائیں بلکہ ضروری یہ ہے کہ ہم سیکھنے بدلنے اور بہتر ہونے کا عزم رکھیں۔ جب انا کی جگہ عاجزی شکایت کی جگہ شکر غصے کی جگہ صبر اور الزام کی جگہ خود احتسابی آ جاتی ہے تو انسان نہ صرف دوسروں کے لیے آسان بن جاتا ہے بلکہ خود اپنے لیے بھی سکون کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو فرد کو بھی سنوارتا ہے اور معاشرے کو بھی۔ اور یہی خود احتسابی کی وہ راہ ہے جو انسان کو حقیقی اچھائی تک لے جاتی ہے۔
